اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا اس کے سواء دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اس نے تو بہت ہی بُرا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی۔ (پارہ ۵ سورہ النساء آیت ۴۸)

دفاتر میں نفاذ اُردُو کے فوائد

دفاتر میں نفاذِ اُردُو کے فوائد:۔


 دفاتر میں نفاذِ اُردُو کے فوائد :۔ پاکستان میں قومی زبان اور اس کی صوبائی زبانوں میں قریبی تعلق پایا جاتا ہے۔ ان تمام زبانوں میں قریباََ ایک ہی جیسے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا جاتا ہے۔ اسلامی رنگ تمام زبانوں میں صاف نظر آتا ہے۔ ان سب زباںو ں پر عربی اور فارسی کا یکساں اثر ہے۔ ان زباںوں میں کافی الفاظ مشترک ہیں یا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں۔

قومی زبان اور صوبائی زبانوں کے ذریعے اتحاد اور یک جہتی کو فروغ دینے کے لیے ہمارے ذرائع ابلاغ یعنی پریس، پاکستان ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ان زبانوں کے مشترکہ ورثے کی تشہیر سے ثقافت اور زبان مضبوط تر ہو رہے ہیں اور مختلف علاقوں کے لوگوں میں ہم آہنگی بڑھ رہی ہے۔

یہاں کلک کریں:۔ ریاضی (سائنس گروپ) ٹیسٹ سیریز

صوبائی زبانوں میں لکھی جانے والی نگارشات کا ترجمہ اردو زبان میں ہو رہا ہے۔ لوگ کہانیاں، قصے ، ڈرامے، مضامین، اشعار اور نغمے اردو زبان میں ڈھالے جار ہے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے مستفیض ہو سکیں۔ اس طرح ان تمام علاقوں کے رہنے والوں اور مختلف زبانیں بولنے والوں کی ایک مشترکہ ثقافت بتدریج پروان چڑھ رہی ہے۔

1) قومی وحدت کی علامت:۔

      کسی بھی ملک کی قومی زبان نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اردو کو بھی پاکستان کی قومی زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایک ایسی زبان ہے جو پاکستان کے ہر حصے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اور قومی یک جہتی بیدار کرنے کا ایک اہم ذریعہ تصور کی جاتی ہے۔ 

2) قومی شناخت کا ذریعہ:۔

      اردو زبان کا تحریک پاکستان سے بہت قریبی تعلق رہا ہے۔ 1867ء میں اردو ہندی زبان کے تنازعہ سے جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی سیاسی سوچ نے ایک نیا رخ اختیار کیا ۔اس واقع سے مسلمانانِ برصغیر پر واضح ہو گیا کہ انھیں اپنے حقوق اور مفادات کی حفاظت کےلیے اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا پڑے گا۔

اسے بھی پڑھیے:۔ انسانی خیالات مصنوعی اعضاء کو وائرلیس سے کنٹرول کریں گے

      برصغیر پاک و ہند کے مسلم دور حکومت میں یہ زبان وجود میں آئی۔ عربی، فارسی و ترکی زبانوں نیز اسلامی ثقافت نے اردو کو اس کا مخصوص تشخص دیا ۔جس کی وجہ سے اسے مسلمانوں میں ہر سطح پر مقبولیت حاصل ہوئی۔ اور نہ صرف یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ بلکہ یہ ہماری قومی پہچان بنی اور ہماری شناخت کا ذریعہ بھی ہے۔

3) اردو ایک فصیح و شیریں زبان ہے:۔

      اردو بلااتفاق ایک ایسی زبان ہے جو فصاحت و بلاغت ، شیرینی و اظہار مطلب کے لیے بڑی شہرت رکھتی ہے۔ یہ تہذیب و تمدن کی زبان ہے اور اس میں خیالات اور حسیات کے نازک نازک فرق ادا ہو سکتے ہیں۔ چونکہ اس میں اکثر دوسری زبانوں کے چند مخصوص الفاظ و حروف شامل ہیں۔مثلاََ عربی، فارسی ، ترکی و سنسکرت وغیرہ ۔ لہٰذہ بہ نسبت دوسری دیسی زبانوں کے ذریعہ تعلیم بننے، ادبی خیالات کو اچھی طرح ظاہر کرنے اور تمدن و شائستگی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے زیادہ تر موزوں ہے۔

مائیکرو سافٹ آفس سیکھیے۔ مائیکروسافٹ آفس کمپلیٹ کورس

4) اردو ایک وسیع زبان ہے:۔

      اردو ایک نہیات وسیع زبان ہے اور اس میں متعدد زبانوں کے الفاظ بہ کثرت شامل ہو نے کی وجہ سے نئے الفاظ و اصطلاحات کے بنانے میں آسانی ہوتی ہے۔ مثلاََ آج کل کے اردو لکھنے والے اگر مغربی سائنس پر کچھ لکھنا چاہیں تو وہ عربی، فارسی، سنسکرت اور انگلش وغیرہ سے بے تکلف الفاظ لے سکتےہیں اور ان کو ایک ضروری تغیر اور مناسبتِ زبان کےساتھ  اپنا سکتے ہیں۔

5) اردوزبان پاکستان کی یک جہتی کی علامت ہے:۔

      کہا جاتا ہے کہ زبان کسی قوم کے افراد کے درمیان باہمی تعلقات کا ایک مؤثر وسیلہ ہوتی ہے۔ یہ بالکل درست ہے کیونکہ اگر کوئی فرد اپنا ملک چھوڑ کر کسی دوسرے ملک چلا جاتا ہے تو وہ وہاں بالکل اجنبی ہوتا ہے۔ اسے غیر ملک میں غیر زبان والا ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ لیکن اگر ان حالات میں اسے کوئی ہم زبان مل جائے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا کیونکہ اس کی مشکلات اور پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں اور وہ اپنے ہم زبان سے مل کر بہت خوش ہوتا ہے۔

اردو زبان ہی وہ واحد زبان ہے جس نے تحریکِ قیام پاکستان کے مسلماںانِ برصغیر کے درمیان پل صراط کا کام کیا اور ان میں رابطے کا فریضہ سر انجام دیا جس کی بنا پر ان کے درمیان باہمی اشتراک پیدا ہوا۔ قیام پاکستان کی تحریک کے دوران چونکہ مسلمانانِ برصغیر مختلف صوبوں میں آباد تھے اور ان کے نہ صرف رسم و رواج مختلف تھے بلکہ تہذیب و تمدن بھی جدا جدا تھے اور وہ مختلف طرح کی زبانیں بولتے تھے ان حالات میں اردو زبان ہی وہ واحد زبان تھی جو تمام صوبوں کے درمیان قدر مشترک تھی۔

اپنی ویب سائٹ بنائیں:۔ ویب ڈویلپمنٹ کورس ۔ HTML لیکچر سیریز

پاکستان کے 1947 ء میں معرضِ وجود میں آتے ہی اردو زبان کو اس کے وجود کے ساتھ برصغیر پاک و ہند کے ہر علاقے نے اپنا لیا۔ اردو زبان لبُ و لہجہ الگ الگ ہونے کے باوجود پاک و ہند کے ہر علاقے میں بولی اور سمجھی جاتی تھی اس لیے قائد اعظم محمد علی جناحؒ بانیِ پاکستان نے پاکستان کی قومی زبان اردو کو قرار دیا ۔تاکہ یہ زبان فصیح و بلیغ اور شیریں ہونے کی بنا پر ملک کے مختلف صوبوں کے عوام کے درمیان رابطے کا آسان اور مؤثر ذریعہ بن سکے۔

یہی وجہ ہےکہ آج ملک کی مختلف علاقائی اور صوبائی زبانوں کے ہوتے ہوئے اردو ایک واحد زبان ہے جو کہ مختلف علاقوں وصوبوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے نزدیک لانے میں کامیاب ہو گئی ہے اور علاقائی و صوبائی زبانوں کی افادیت کے ساتھ ساتھ اردو کو پاکستان کے ہر صوبے میں اپنامقام حاصل ہے ان باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اس بات پر بلا شک و شبہ متفق ہونا پڑے گا کہ اردو زبان ہی وہ واحد زبان ہے جو پاکستان کی یکجہتی کی علامت ہے۔

6) اسلامی وقار و شکوہ کی عکاس:۔

      اردو زبان چونکہ مختلف اسلامی زبانوں مثلاََ عربی، فارسی، ترکش کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اس لیے یہ زبان نہ صرف اِن اسلامی زبانوں کو آسانی سے سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ان کو پڑھنے اور لکھنے میں بھی بہت مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہمیں یہ جاننے میں ذرا بھی مشکل نہیں ہو گی کہ اردو زبان اپنے اندر اتنی وسعت لیے ہوئے ہے کہ اس کی بدولت ہم نہ صرف ان اسلامی زبانوں کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں بلکہ انہیں لکھ اور پڑھ بھی سکتےہیں ۔ اس کے علاوہ اسلامی ممالک کے رہنے والوں سے با آسانی تعلقات بھی قائم کر سکتے ہیں اور ہمیں باہم رواطب میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ زبان اسلامی وقار و شکوہ کی عکاس کہلاتی ہے۔

یہاں کلک کریں: ۔کلاس نہم کے نوٹس یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں۔

7) خطے میں اہم کردار:۔

      ہمارے ملک کے مختلف علاقوں و صوبوں میں رہنے والے لوگ اپنے اپنے علاقے و صوبےکی اپنی اپنی علاقائی و صوبائی زبان رکھتے ہیں جیسا کہ پنجاب میں پنجابی و سرائیکی۔ سندھ میں سندھی، خیبر پختونخواہ میں پشتو۔ بلوچستان میں بلوچی بولی جاتی ہے۔ اسی طرح مختلف علاقوں کی بھی اپنی اپنی علاقائی زبانیں ہیں جیسا کہ ہندکو، پوٹھوہاری وغیرہ اپنے اپنے علاقے کے حساب سے بولی جاتی ہیں۔

اردو زبان نہ صرف ان علاقوں و صوبوں کے رہنے والے لوگوں کے درمیان اہم رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ برصغیر کے مختلف ممالک پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں بھی یکساں اہمت کی حامل ہے ۔ یہ اس خطے کے ممالک میں بسنے والے لوگوں کے درمیان سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ یہاں تک کہ ان ممالک کے ذرائع ابلاغ بھی زیادہ تر اسی زبان میں اپنے پروگرام نشر کر رہے ہیں۔ ان کی بدولت اس زبان کے مشترکہ ورثےکی تشہیر سے ثقافت اور زبان مضبوط دونوں مضبوط سے مضبوط  تر ہو رہے ہیں اور مختلف علاقوں، صوبوں اور ممالک کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھ رہی ہے۔

8) اسلامی تہذیب و ثقافت کی علمبردار:۔

      اردو زبان اسلامی تہذیب و ثقافت کی علمبردار ہے۔ اس زبان میں ترکی، عربی اور فارسی زبان کی چاشنی و مٹھاس پائی جاتی ہے۔ جس سے ترکوں کی شان و شوکت ، عربوں کا وقار اور ایران و فارس کی عظمت و جلال جھلکتا ہے۔ وہیں ارضی عناصر یعنی ہندی زبان کی مٹھاس، محبت، موسیقیت، عجز و انکساری بھی عیاں ہے۔ لہٰذہ اردو زبان کو دفتری زبان کے طور پر جب ہم نافذ کرتے ہیں تو یہ دو عظیم تہذیبوں یعنی اسلامی اور ہندی تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔

دہم نوٹس:۔ دہم کلاس کے نوٹس یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

9) دفتری معاملات میں ترقی کی ضامن:۔

      چونکہ ہر پاکستانی کی مادری زبان اردو نہیں تاہم عمر کے ابتدائی دور سے ہی اردو سے آشنائی اور اس کی عام فہمی کی وجہ سے اردو کو سمجھنا آسان ہے۔ اردو ہماری علاقائی زبانوں سے نہایت مماثلت رکھتی ہے۔ لہذہ ہر فرد کو اردو تک رسائی سہل ہے۔ اولاََ دفاتر میں استعمال اور نافذ کرنے سے ایک تو ہر شخص اور ہر فرد با آسانی سمجھ سکتا ہے۔ ثانیاََ جب سمجھ سکتا ہے تو دفتری معاملات میں بااحسن استعما ل کر کے ترقی کی منازل بھی طے کی جاسکتی ہیں۔

غیر ملکی اور بدیسی زبانوں تک رسائی ناممکن تو نہیں تاہم مشکل ضرور ہوتی ہے۔ چونکہ ہماری ارضِ پاک کی اکثر آبادی دیہی علاقوں پر مشتعمل ہے۔ اس لیے غیر ملکی زبانوں کو سیکھنے کی بہ نسبت اردو زبان کو سیکھنا اور اس پر عبور حاصل کرنا نہایت آسان ہے۔ اسی طرح اگر اس کا نفاذ دفاتر میں کیا جائے تو اس میں کام کرنا مشکل نہیں ہو گا۔ اور یہی ملک کی ترقی کی ضامن بھی ہوگی۔

10) قومی وقار، احساسِ خود داری و خود اعتمادی:۔

      موجودہ سروے کے مطابق اردو دنیا میں بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں دوسرے نمبر پر آتی ہے۔ اتنی عظیم زبان ہونے کے باوجود بھی اس کو دفتری زبان کے طور پر نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ جہاں یہ اردو کے ساتھ نا انصافی ہے وہیں یہ ہمارے وطنِ عزیز، معاشرے اور افراد کےلیے بھی نہایت دل شکن بات ہے کہ اس زبان کو ہم 74 سالوں میں حکم نامے موجود ہونے کے باوجود دفاتر میں نافذ نہیں کر سکے۔ اگر ہم اب بھی اس کو دفاتر میں نافذ کرتے ہیں تو اردو نہ صرف ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرے گی بلکہ یہ ہماری تہذیب و پہچان، وقار ،احساسِ خودداری اور خود اعتمادی کی بھی علامت ہو گی۔ کیوں کہ زبانیں ہی کسی بھی ملک و قوم ، خطے، تہذیب و ثقافت اور افراد کی پہچان و شناخت کا ذریعہ ہوتی ہیں۔


پچھلی اقساط پڑھنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک (پچھلا صفحہ )  پر کلک کریں۔  اُردُو کی ترویج کے لئے ہماری یہ ادنی سی کاوش جاری ہے۔آپ سے گذارش ہے کہ اپنی قیمتی رائے سے نیچے دئے گئے کمنٹس باکس میں ضرور آگاہ کیجئے۔ اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا مضمون، کہانی یا کوئی افسانہ اس ویب سائٹ پر چھپے تو آپ ہمیں ہمارے ای میل لنک پر کلک کر کے اپنے نام، پتے اور فون نمبر کے ساتھ بھیج سکتےہیں۔ 

مزید پڑھنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج باب العلم اکیڈمی آف سائنس اینڈ کامرس کو فالو کیجئے۔اس کے علاوہ مزید تعلیمی خبروں اور معلومات کے لئے ہمارے یو ٹیوب چینل باب العلم لرننگ پوائنٹ کو سبسکرائب کریں، تاکہ آپ کو روزانہ نئی معلومات ملتی رہیں۔

« پچھلا صفحہاگلا صفحہ » 


About Author:

Muhammad Irfan Shahid
Experienced Lecturer with a demonstrated history of working in the Computer Software industry. Skilled in Microsoft Office (MS Word, MS Excel, MS PowerPoint, MS Access) HTML, CSS, JavaScript, PHP, C, C++, Java, ASP.Net, and MySQL. Strong information technology professional with BSCS (Hons) focused in Computer Science from Virtual University of Pakistan, Lahore.

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: