اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا اس کے سواء دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اس نے تو بہت ہی بُرا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی۔ (پارہ ۵ سورہ النساء آیت ۴۸)

Disadvantages of implementing Urdu in offices

دفاتر میں نفاذِ اردو کے نقصانات:۔


اپنی پچھلی پوسٹ میں ہم نے دفاتر میں نفاذِ اردو کے فوائد کے بارے میں لکھا تھا لیکن نقصانات کی ذیل میں اگر ہم “اردو زبان بطور دفتری زبان” کے بارے میں بات کریں تو فوائد کی نسبت نقصانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اردو کی نفاذیت کے سلسلے میں چند مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا تو کرنا پڑے گا۔ تاہم ان رکاوٹوں کو عبور کرنا ناممکن نہیں۔ اس سلسلے میں درج ذیل جزوی و وقتی نقصانات ہو سکتےہیں:۔

اسے پڑھیے:۔ ریاضی (سائنس گروپ) ٹیسٹ سیریز

1) تراجم کی ضرورت:۔

ہمیں اپنی زبان کے عملی نفاذ یعنی دفتری زبان (Official Language) بنانے کے لیے اہم انگریزی کتب کے ترجمہ کی ضرورت ہو گی۔ جو اس سلسے میں ممدومعاون ہو سکتی ہے۔ تراجم کےلئے مستند افراد کی خدمات کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ (Electronic Media) کی بھی ضرورت پیش آئے گی اور اس کے لئے کافی وقت بھی درکار ہو گا۔ اگر ہم نے 1973ء کے آئین پر عمل کرتے ہوئے اسے مرحلہ وار اختیار کیا ہوتا تو یہ مسئلہ کافی عرصہ پہلے ہی حل ہو چکا ہوتااور ہمیں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

اسے بھی پڑھیے:۔ انسانی خیالات مصنوعی اعضاء کو وائرلیس سے کنٹرول کریں گے

2) سائنس، انجیئنرنگ اور کمپیوٹر کے میدان میں مسائل: ۔

برصغیر میں برطانوی دور سے پہلے سائنسی علوم کا اس قدر رواج نہ تھا۔ سر سید احمد خان نے علی گڑھ گزٹ اور سائنٹیفک سوسائٹی کےقیام کے ذریعے ہمیں جدید سائنسی علوم سے روشناس کرانے کی کوشش کی۔ قیام پاکستان کے بعد یہ علوم انگریزی زبان میں ہی تعلیمی اداروں میں پڑھائے جاتے رہے اور کافی عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان علوم کا ذریعہ تعلیم تبدیل نہ کیا جاسکا۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد  اب کہیں میٹرک تک ان علوم کی تعلیم اردو میں دی جاتی ہے۔لیکن میٹرک کے بعد یہ علوم دوبارہ سے  انگریزی میں ہی پڑھائے جاتے ہیں۔

جس کی وجہ سے وہ طلباء جن کی انگریزی کمزور ہوتی ہے انہیں کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا ۔جس کی وجہ سے یا تو وہ طلباءفیل ہوجانے یا کم نمبرز حاصل کرنے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہو کر  تعلیم کو خیر آباد کہ دیتےہیں یا وہ سائنس ، انجینئرنگ اور کمپیوٹر کو چھوڑ کا اپنا رجحان آرٹس مضامین کی طرف کر لیتے ہیں جس سے انہیں کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ چونکہ وہ ملکی ترقی میں اپنی کلیدی کردار ادا نہیں کر پاتے جس سے ملک کا بھی نقصان ہوتا ہے۔  نیز اکیسویں صدی میں کمپیوٹر عام ہونے سے کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ تعلیم اور اس کا نفاذ بھی انگریزی زبان میں ہے۔

چونکہ یہ تمام علوم ایک عرصہ گزر جانے کے باوجود انگریزی زبان میں ہی مستعمل ہو رہے ہیں تو اگر ہم ان علوم کو اردو زبان میں دفاتر میں دفتری زبان کے طور پر لاگو کرنا چاہیں تو نا صرف ہمیں کافی دقت پیش آئے گی بلکہ بہت زیادہ مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم اگر کوشش کی جائے تو یہ ناممکن نہیں اور ہم انشاءاللہ ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔

3) اصطلاحات (Terminologies)  کے مسائل :۔

ہمیں بہت سی اصطلاحات کو اردو کےقالب میں ڈھالنے اور انہیں دفتری استعمال کے قابل بنانے میں مسائل درپیش آسکتےہیں۔ اس سلسلے میں اردو زبان کا ذخیرہ الٖفاظ (Glossary) زیادہ وسیع نہیں ہے۔ ہمیں جدید ترقی یافتہ زبانوں کی صف میں کھڑے ہونے کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق اپنی تہذیب و ثقافت کو مدِ نظر رکتھے ہوئے ان اصطلاحات کو اپنی قومی زبان میں تشکیل دینا پڑے گا۔ اس سلسلے میں مقتدرہ قومی زبان اور دیگر قومی اداروں سے مدد لی جاسکتی ہے جو اس زبان کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔ نیز سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر بتدریج قومی زبان کے استعمال سے اس نقصان یا اہم مسئلہ پر قابو پا کر اردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذکیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:۔ ویب ڈویلپمنٹ کورس ۔ HTML لیکچر سیریز

4)اردو کے ساتھ دیگر عالمی زبانوں سے آگاہی :۔

ہر دفتر اور ہر ادارے میں چند افراد کو دیگر عالمی زبانوں کی تربیت دلائی جا سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ پوری قوم ہی بیرونی زبانوں کے رعب تلے احساسِ کمتری کا شکار ہو جائے۔ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہماری قوم اور مٹی میں آگے بڑھنے ، پھلنے پھولنے اور عروج و ترقی کے عناصر ہیں جس کی وجہ سے ہم دیگر زبانوں کو سیکھ کر اپنی قومی زبان کو روز افزوں ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔


پچھلی اقساط پڑھنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک (پچھلا صفحہ )  پر کلک کریں۔  اُردُو کی ترویج کے لئے ہماری یہ ادنی سی کاوش جاری ہے۔آپ سے گذارش ہے کہ اپنی قیمتی رائے سے نیچے دئے گئے کمنٹس باکس میں ضرور آگاہ کیجئے۔ اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا مضمون، کہانی یا کوئی افسانہ اس ویب سائٹ پر چھپے تو آپ ہمیں ہمارے ای میل لنک پر کلک کر کے اپنے نام، پتے اور فون نمبر کے ساتھ بھیج سکتےہیں۔ 

مزید پڑھنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج باب العلم اکیڈمی آف سائنس اینڈ کامرس کو فالو کیجئے۔اس کے علاوہ مزید تعلیمی خبروں اور معلومات کے لئے ہمارے یو ٹیوب چینل باب العلم لرننگ پوائنٹ کو سبسکرائب کریں، تاکہ آپ کو روزانہ نئی معلومات ملتی رہیں۔

« پچھلا صفحہاگلا صفحہ » 


About Author:

Muhammad Irfan Shahid
Experienced Lecturer with a demonstrated history of working in the Computer Software industry. Skilled in Microsoft Office (MS Word, MS Excel, MS PowerPoint, MS Access) HTML, CSS, JavaScript, PHP, C, C++, Java, ASP .NET, and MySQL. Strong information technology professional with BSCS (Hons) focused in Computer Science from Virtual University of Pakistan, Lahore.

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: