اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا اس کے سواء دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اس نے تو بہت ہی بُرا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی۔ (پارہ ۵ سورہ النساء آیت ۴۸)

اردو کے روشن مستقبل کے لئے چند تجاویز

اُردُو کے روشن مستقبل کے لئے چند تجاویز:۔


پاکستان میں اُردُو چونکہ ہماری قومی زبان ہے اور اس ملک کے تمام باشندوں بلخصوص تمام صوبوں و علاقوں کے درمیان رابطے کاذریعہ بھی ہے۔ اسلئے تمام صوبوں کے درمیان ہم آہنگی و بھائی چارہ کو مزید پروان چڑھانے کے  لئے یہ ضروری ہے کہ اُردُو زبان کا مستقبل خوشگوار اور روشن ہو۔ اُردُو کے روشن مستقبل کے لئے ذیل میں چند تجاویز پیش کی جاری ہیں۔ اگر اربابِ اختیار اور ہم ان تجاویز پر عمل کریں تو اُردُو کا مستقبل روشن اور خوشگوار ہو سکتا ہے۔ 

اسے پڑھیے:۔ دفاتر میں نفاذِ اردو کے نقصانات

1) ذریعہ تعلیم:۔

اگر ہم چاہتےہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے اور ہم اپنی زبان کی وجہ سے پوری دُنیا میں پہچانے جائیں تو ہمیں پاکستان کے تمام سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں میں فی الحال آرٹس مضامین کےلئے اردو کو ذریعہ تعلیم بنا دینا چاہیے۔ اس سے نہ صرف وہ طلباء جن کے لیے انگریزی زبان میں ان مضامین کو پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ وہ بھی اردو زبان کی بدولت آرٹس مضامین میں اچھی کارکردگی کا مظاہر ہ کر سکیں گے اور ہمارے ملک و زبان کی ترقی کا ذریعہ بنیں گے۔

اسے بھی پڑھیے:۔ پنجاب بورڈز کے مطابق دہم کلاس کے لیے گیس پیپرز

2) دفاتر میں اُردُو زبان : ۔

اگر اردو زبان کو دفاتر میں فوری طور پر رائج کر دیا جائے اور تمام محکمہ جات و دفاتر کو اس بات کا پابند کر دیا جائے کہ تمام خط و کتابت اردو میں کی جائے گی تو بھی وہ دن دور نہیں جب ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا اور اردو زبان ہماری پہچان کا ذریعہ بن چکی ہو گی ۔

3) سائنس اور فلسفے کی اصطلاحات :۔

اردو کے روشن متقبل کے لیے ایک کوشش یہ بھی کی جانی چاہیے کہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ سائنس اور فلسفے وغیرہ کی تمام اصطلاحات کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر کیا ہونا چاہیے۔ آیا ہمیں چند ضروری اصطلاحات کا ترجمہ کرنا چاہیے یا تمام اصطلاحات کو اپنا لینا چاہیے اور ان اصطلاحات کے لیے اردو میں ایک لغت تیار کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں:۔ ویب ڈویلپمنٹ کورس ۔ HTML لیکچر سیریز

3) اعلیٰ درجہ کا ادب و علمی کتب :۔

اردو کے درخشاں مستقبل کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جہں اس میں اعلیٰ درجہ کا ادب وجود میں آتا رہے۔ وہیں اعلیٰ درجے کی علمی کتابیں بھی کثرت سے شائع ہوں جن کی کمی آج تک محسوس کی جارہی ہے۔ خصوصاً سائنس ، فلسفہ، تاریخ، ریاضی، اقتصادیات اور سیاسیات سے متعلق کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہمارے تصرف میں ہونا چاہیے۔

پس اگر ان تمام تجاویز پر خلوصِ دل سے عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اردو ترقی کی منزلیں طے نہ کرے اور اس کی بدولت ہمارا ملک دنیا میں اپنا ایک اہم مقام نہ بنا سکے۔


پچھلی اقساط پڑھنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک (پچھلا صفحہ )  پر کلک کریں۔  اُردُو کی ترویج کے لئے ہماری یہ ادنی سی کاوش جاری ہے۔آپ سے گذارش ہے کہ اپنی قیمتی رائے سے نیچے دئے گئے کمنٹس باکس میں ضرور آگاہ کیجئے۔ اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا مضمون، کہانی یا کوئی افسانہ اس ویب سائٹ پر چھپے تو آپ ہمیں ہمارے ای میل لنک پر کلک کر کے اپنے نام، پتے اور فون نمبر کے ساتھ بھیج سکتےہیں۔ 


مزید پڑھنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج باب العلم اکیڈمی آف سائنس اینڈ کامرس کو فالو کیجئے۔اس کے علاوہ مزید تعلیمی خبروں اور معلومات کے لئے ہمارے یو ٹیوب چینل باب العلم لرننگ پوائنٹ کو سبسکرائب کریں، تاکہ آپ کو روزانہ نئی معلومات ملتی رہیں۔

« پچھلا صفحہاگلا صفحہ » 


About Author:

Muhammad Irfan Shahid
Experienced Lecturer with a demonstrated history of working in the Computer Software industry. Skilled in Microsoft Office (MS Word, MS Excel, MS PowerPoint, MS Access) HTML, CSS, JavaScript, PHP, C, C++, Java, ASP.Net, and MySQL. Strong information technology professional with BSCS (Hons) focused in Computer Science from Virtual University of Pakistan, Lahore.

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: