اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا اس کے سواء دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اس نے تو بہت ہی بُرا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی۔ (پارہ ۵ سورہ النساء آیت ۴۸)

Official Urdu in Pakistan Forces

افواجِ پاکستان میں دفتری اُردُو:۔


14 اگست 1947ء کو جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو اس کے ابتدائی چند برسوں میں انگریز کمانڈر ان چیف کی وجہ سے فوج کا سارا کام انگریزی میں ہوتا رہا لیکن 1950ء کے لگ بھگ جنرل ایوب خان کے کمانڈر ان چیف بن جانے کے بعد اردو کو اس قومی ادارےمیں جگہ ملی۔ اسی زمانے میں قومی سطح پر قومی زبان کے حق میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ اس سلسلےمیں پاکستان فورسز بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں اور پاکستانی فوجی افسروں میں بھی کئی ایسے آفیسرز سامنے آئے جو اردو کے مقابلےمیں انگریزی کے استعمال پر خوش نہیں تھے، ان کی مساعی سے پاکستان فورسز میں قومی زبان رائج ہو گئی۔ اس زمانےسے اب تک اردو کے نفاذ کےلئے پاکستان فورسز میں جو اقدامات کیے جاتے رہے۔ وہ ہمارے سامنے ہیں اور اس قابل ہیں کہ ان کی جتنی بھی ستائش کی جائے ، کم ہے۔

اسے پڑھیے:۔ ریاضی (سائنس گروپ) ٹیسٹ سیریز

زبان کا اختلاف اور اُردُو:۔

چونکہ پاکستان فورسز میں ملک کے مختلف حصوں سے پنجانی ، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، ہندکو اور مختلف زبانیں بولنے والے افراد شامل ہوتے ہیں، اس لیے ملک کے مختلف حصوں سے آنے والوں میں زبان کا اختلاف شروع دن  سے ہی موجود رہا ہے۔اس کے باوجود اہم فوجی امتحانات کے سلسلے میں کسی ایسی زبان کی ضرورت بہرحال قائم رہی جس کے ذریعے:۔

  • وہ اپنے امتحانات پاس کر کے ترقی پانے کے قابل ہو سکیں۔
  •  کوئی ایسی زبان موجود ہو جو ان کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکے۔

پاکستانی افواج میں اردو رابط کی زبان ہے پانچو ں صوبوں سے آنے والے فوجی اردو کے ذریعے اپنے مافی الضمیر کو بیان کرتے ہیں۔ نیز اپنی ترقیوں کے لیے اردو کے ذریعے امتحانات دیتے ہیں۔ اگر زبان کے اختلاف کے تناظ میں اس زبان کا ذکرکیا جائے تو اردو ہی وہ واحد زبان ہے جس نے پاکستان کے مختلف طبقوں کو لسانی حوالے سےایک لڑی میں پرو رکھا ہے جس کی وجہ سے ان کے مابین فکری ہم آہنگی موجود ہے۔اور وہ ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتےہیں۔ اردو کی وجہ سے ہی وہ ان لسانی طبقوں اور آپس کے اختلافات کو بھول کر ایک قوم کے طور پر نظر آتے ہیں۔ 

عسکری اُردو:۔

افواج پاکستان میں نچلی سطح پر اکثر و بیشتر کام اردو کے ذریعے ہی انجام پاتےہیں۔ فوجی اداروں مین جس انداز اور اصلوب میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے “عسکری اردو” کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ 1982ء میں “انگریزی اردو عسکری لغت” شائع ہوئی تھی۔ اس لغت میں تمام عسکری الفاظ و اصطلاحات کو اپنے مجموعی معنوی تناظر میں مرتب کیا گیا تھا۔ عسکری اداروں میں ترویج اردو کے سلسلے میں اس لغت کا خاصہ اثر رہا ہے۔ اس وجہ سے افواج پاکستان کے مختلف طبقوں میں اردو کی ترویج کے مسائل میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔

اسی طرح پاکستان کے ترجمان جریدے ” ہلال” نے بھی اردو کی ترویج اور اشاعت کا بنیادی نوعیت کا کام سر انجام دیا ہے۔ اگر ملک کے تمام دفاتر میں اردو کو فورا نافذ کر دیا جائے، تو عسکری اداروں میں اس کی مکمل ترویج اور نفاذ کے سلسلے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور سے لے کر موجودہ کمانڈر انچیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور تک افواج پاکستان کے اندر نفاظ اردو اور ترویج اردو کی کوششیں کسی نہ کسی صورت جاری ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

اسے بھی پڑھیے:۔ انسانی خیالات مصنوعی اعضاء کو وائرلیس سے کنٹرول کریں گے

نفاذ اردو کے لئے کوشاں ادارے: ۔

ذیل میں ان اداروں کا ذکر کیا گیاہے جو پاکستان اور اسے مختلف قومی اداروں میں کسی نہ کسی صورت نفاذ اردو کے لیے کوشاں ہیں۔

  • مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد
  • اکید می ادبیات اسلام آباد
  • اردو لغت بورڈ، کراچی
  • انجمن ترقی اردو، پاکستان
  • اردو سائن بورڈ، لاہور 
  • مجلس ترقی ادب، لاہور
  • شعبہء تصنیف و تالیف و ترجمہ ، پنجاب یونیورسٹی ، لاہور

پچھلی اقساط پڑھنے کے لیے نیچے دئیے گئے لنک (پچھلا صفحہ )  پر کلک کریں۔  اُردُو کی ترویج کے لئے ہماری یہ ادنی سی کاوش جاری ہے۔آپ سے گذارش ہے کہ اپنی قیمتی رائے سے نیچے دئے گئے کمنٹس باکس میں ضرور آگاہ کیجئے۔ اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا مضمون، کہانی یا کوئی افسانہ اس ویب سائٹ پر چھپے تو آپ ہمیں ہمارے ای میل لنک پر کلک کر کے اپنے نام، پتے اور فون نمبر کے ساتھ بھیج سکتےہیں۔ 

مزید پڑھنے کے لیے ہمارے فیس بک پیج باب العلم اکیڈمی آف سائنس اینڈ کامرس کو فالو کیجئے۔اس کے علاوہ مزید تعلیمی خبروں اور معلومات کے لئے ہمارے یو ٹیوب چینل باب العلم لرننگ پوائنٹ کو سبسکرائب کریں، تاکہ آپ کو روزانہ نئی معلومات ملتی رہیں۔

« پچھلا صفحہاگلا صفحہ » 


About Author:

Muhammad Irfan Shahid
Experienced Lecturer with a demonstrated history of working in the Computer Software industry. Skilled in Microsoft Office (MS Word, MS Excel, MS PowerPoint, MS Access) HTML, CSS, JavaScript, PHP, C, C++, Java, ASP.Net, and MySQL. Strong information technology professional with BSCS (Hons) focused in Computer Science from Virtual University of Pakistan, Lahore.

Leave a Comment

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: